✍️پروین شاکر بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
اُردو اَدب کے ممبران کو ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں سب ایک دوسرے سے علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کر سکیں۔ ان کی گفتگو سے اردو ادب مِیں دلچسپی رکھنے والے احباب سیکھ سکیں۔ پاکستان بلکہ ہندووستان اور دیگر ممالک سے بھی نامور ادبی شخصیات موجود ہیں جو اپنی شعری و نثری تخلیقات سے نوازتی رہتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اُردو اَدب کی مختلف اصناف کے حوالے سے معلومات بھیجنا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرنا یہ بھی ایک مقصد ہے۔