نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

شاعر لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پروین شاکر

 ✍️پروین شاکر بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے  موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے  بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں  کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے  جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں  بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے  لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس  سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے  بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب  دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے  سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں  زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے  جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی  لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

سلسلہ: شعر❣شاعر❣ شعور

سلسلہ: شعر❣شاعر❣ شعور تاریخ: ۱۸ مارچ ۲۰۱۸ بروز اتوار ردیف اور قافیہ دراصل شعری اصطلاحات کے اجزاء ہیں۔ ان کے بغیرصنفِ غزل /نظم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔جس طرح شاعری میں بحور اور زمیں خاص اہمیت کی حامل ہیں بالکل اسی طرح ردیف اور قافیہ صنفِ غزل / نظم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ ان کے بغیر اصنافِ نظم میں ترنم بھی پیدا نہیں ہوتا۔ قافیہ لفظ قفو سے ہے جس کے معنی پیروی کرنے کےاور پیچھے آنے والے کے ہیں۔اردو ادب میں قافیہ ایسے الفاظ کو کہا جاتا ہے جو اشعار میں الفاظ کے ساتھ غیر مسلسل طورپر آخر میں بار بار آتے ہیں۔یہ الفاظ بعض وقت غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں مگر ہٹا دیئے جانے پر بھی خلا پیدا کر جاتے ہیں۔اس لیے ترنم اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے قافیہ کا استعمال لازم و ملزوم تصور کیا جاتا یے۔اس کی ایک خوبصورت مثال ملاحظہ فرمائیں؛ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے مندرجہ بالا شعر میں ۔ہوا۔ اور ۔دوا۔ قوافی ہیں۔ ردیف کےمعنی گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والے کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد قافیہ کے بعد آنے والے وہ الفاظ ہیں جو مکرر آتے ہوں۔ اور یکساں بھی...

نتہائے فکر

نتہائے فکر انتخاب برائے تبصرہ شاعر... منچندہ بانی  گفتگو: افتخار راغب عجیب تجربہ تھا بھیڑ سے گزرنے کا  اسے بہانہ ملا مجھ سے بات کرنے کا  ★★★ پہلے مصرع میں تجربہ تھا کہنا درست نہیں ہے یہاں تجربہ ہوا کا محل ہے لیکن بھیڑ سے گزنے کا تجربہ ہوا کہنا بھی یہاں مناسب نہیں ہے. "بھیڑ سے گزرنے پر" کا محل ہے. "تجربہ تھا" ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے جیسے ہم کہیں کہ ہمیں مکان تعمیر کرنے کا تجربہ تھا لیکن وہان روڈ اور پل بنانے کا تجربہ درکار تھا.  شعر کا دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے. شعر کا مضمون بھی عمدہ ہے لیکن زبان کی خرابی نے مزہ کرکرا کر دیا ہے. پھر ایک موج تہہ آب اس کو کھینچ گئی  تماشہ ختم ہوا ڈوبنے ابھرنے کا  ★★★ "کھینچ گئی" بڑی بھدی زبان ہے بلکہ کوئی زبان نہیں ہے یہاں "لے ڈوبی" کا محل ہے. دوسرا مصرع خوب ہے اگر لے ڈوبی کہا گیا ہوتا تو عمدہ شعر ہو جاتا جس میں حضرت نوح ع کے بیٹے کے ڈوبنے کا تلمیحی اشارہ بھی موجود ہے. مجھے خبر ہے کہ رستہ مزار چاہتا ہے  میں خستہ پا سہی لیکن نہیں ٹھہرنے کا  ★★★ "رستہ مزار چاہتا ہے" سے کیا...