ہیر وارث شاہ میں گیارہ ہزار انہتر شعروں کی ملاوٹ ۔۔۔۔ ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں اگر یہ پوچھا جائے کہ یہ مصرع کس کا ہے تو اکثر لوگوں کا جواب وارث شاہ ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ وارث شاہ کا نہیں۔ یہ ان 11069 مصرعوں میں سے ایک ہے جومختلف شاعروں نے لکھہ کر ہیر وارث شاہ میں شامل کئے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جنڈیالہ شیر خاں کے وارث شاہ کے 1180ھ میں ملکہ ہانس کی تین سبز میناروں والی مسجد کے حجرے میں لکھے ہوئے ہیر رانجھا کے قصے کوپنجاب میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی اور کتاب کو نہیں ملی۔ قران مجید کے بعد کوئی اور کتاب اتنی نہیں چھپی۔ اس قصے کو کئی اور شعرأ نے بھی منظوم کیا۔ وارث شاہ سے بہت پہلے جھنگ سیال کے ایک دکاندار دمودر داس اروڑہ اور سعید سعیدی نے بھی یہ کیا تھا۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ہیر رانجھے کا معاملہ ان کے سامنے کی بات ہے۔ فارسی میں کولابی نے یہ قصہ منظوم کیا۔ ہندی میں بھی لکھا گیا، پنجابی میں ہیر رانجھا کے کئی درجن قصے لکھے گئے۔ لیکن جو مقبولیت ہیر وارث شاہ کو ملی وہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ (رام بابو سکسینہ نے اپنی مشہور کتاب تاریخ ادبِ اردو میں لکھا تھا ’’ا...
اُردو اَدب کے ممبران کو ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں سب ایک دوسرے سے علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کر سکیں۔ ان کی گفتگو سے اردو ادب مِیں دلچسپی رکھنے والے احباب سیکھ سکیں۔ پاکستان بلکہ ہندووستان اور دیگر ممالک سے بھی نامور ادبی شخصیات موجود ہیں جو اپنی شعری و نثری تخلیقات سے نوازتی رہتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اُردو اَدب کی مختلف اصناف کے حوالے سے معلومات بھیجنا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرنا یہ بھی ایک مقصد ہے۔