دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے اشک پھر میری نگاہوں سے ہیں اکثر نکلے بات کرتا تھا ہمیشہ جو مسیحائی کی اس کے پہلو سے کئی آج ہیں خنجر نکلے چاند نکلا تو مرا چاند بھی آیا ہے نظر حُسن کی دوڑ میں دونوں ہی برابر نکلے زخم چھو کر وہ مرے ساتھ مسافر رویا غیر تو دل کے رفیقوں سے بھی بہتر نکلے جس گھڑی میری نگاہوں کو برستے دیکھا اس گھڑی قہقہے اس شخص سے اکثر نکلے کاش یوں ہو کہ وہ آئے تو نظر جھوم اٹھے اس کی آمد سے کبھی پیار کا منظر نکلے ہم نے اک عمر فریبوں میں گذاری عظمٰی موم سمجھا تھا جسے وہ تو ہیں پتھر نکلے سیدہ عظمىٰ شاہ گردیزی آزادکشمیر راولاکوٹ
اُردو اَدب کے ممبران کو ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں سب ایک دوسرے سے علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کر سکیں۔ ان کی گفتگو سے اردو ادب مِیں دلچسپی رکھنے والے احباب سیکھ سکیں۔ پاکستان بلکہ ہندووستان اور دیگر ممالک سے بھی نامور ادبی شخصیات موجود ہیں جو اپنی شعری و نثری تخلیقات سے نوازتی رہتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اُردو اَدب کی مختلف اصناف کے حوالے سے معلومات بھیجنا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرنا یہ بھی ایک مقصد ہے۔