میں نشے میں ہوں … یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں میر تقی میر ....... تاروں سے میرا جام بھرو! میں نشے میں ہُوں اے ساکنانِ خُلد سنو! میں نشے میں ہُوں کچھ پُھول کھل رہے ہیں سَرِ شاخِ میکدہ تم ہی ذرا یہ پُھول چنو! میں نشے میں ہوں ٹھرو! ابھی تو صُبح کا تارا ہے ضُو فِشاں دیکھو! مجھے فریب نہ دو! میں نشے میں ہوں نشہ تو موت ہے غمِ ہستی کی دُھوپ میں بکھرا کے زُلف ساتھ چلو! میں نشے میں ہوں میلہ یُونہی رہے یہ سرِ رہگزارِ زیست! اب جام سامنے ہی رکھو! میں نشے میں ہوں پائل چھنک رہی ہے نگارِ خیال کی! کچھ اہتمامِ رقص کرو! مَیں نشے میں ہُوں مَیں ڈگمگا رہا ہُوں بیابانِ ہوش میں میرے ابھی قریب رہو! میں نشے میں ہوں ہے صرف اِک تبسّ...
اُردو اَدب کے ممبران کو ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں سب ایک دوسرے سے علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کر سکیں۔ ان کی گفتگو سے اردو ادب مِیں دلچسپی رکھنے والے احباب سیکھ سکیں۔ پاکستان بلکہ ہندووستان اور دیگر ممالک سے بھی نامور ادبی شخصیات موجود ہیں جو اپنی شعری و نثری تخلیقات سے نوازتی رہتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اُردو اَدب کی مختلف اصناف کے حوالے سے معلومات بھیجنا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرنا یہ بھی ایک مقصد ہے۔