نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی


آئن سٹائن نے دوسری شادی مائلیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا، آئن سٹائن کے کمرے، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتو چیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔

 میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔

بیوی: آئن۔۔۔وے آئن۔۔۔!!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع دور۔۔۔جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔!!!
بیوی: چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔مم۔۔۔مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔روندا سائنس نوں۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے
میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔!!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔!!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔!!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔!!
بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کردوں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ تو ہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔!!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔!!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔!!!

(تحریر: نامعلوم)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

منیر نیازی کی غزل ( بیان و بدیع کے تناظر میں)

تحریر: ڈاکٹر سمیرا اعجاز پیشکش: ادارہ اردو ادب یہ تحریر دو حصّوں مِیں پیش کی جائے گی۔ (پہلا حصّہ) منیر نیازی کی غزل ( بیان و بدیع کے تناظر میں منیر نیازی کی غزل روایت اور جدّت کے احساس سے مملو ہے۔ اُنھوں نے جہاں نئے موضوعات و اسالیب سے شاعری کو ہم کنار کیا وہیں فنّی سطح پر بھی تخلیقی قوت عطا کی۔ اُن کی غزل بیان و بدیع کے حسن سے مزین ہونے کی بنا پر ندرتِ فن، تازہ بیانی اور تازہ خیالی کی حامل ہے۔علم بیان کا اہم ستون تشبیہ ہے۔ فن تشبیہ مختلف چیزوں میں مشابہتیں دریافت کرنے کا نام ہے جو شاعری میں توضیح و توجیہہ، لطافت، حُسنِ ادا، شگفتگی اور جدت و ایجاز کی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔ منیر نیازی کی غزل میں موجود تشبیہات اُن کی فکری و فنی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اُنھوں نے فکر و فن کے امتزاج سے ایک حسین سنگم کی تخلیق کی ہے۔ اس لیے اُن کی تشبیہات محض تزئین و آرایش کا وسیلہ نہیں بلکہ فکری ڈھانچے کا جزو بن کر سامنے آتی ہیں۔ اس طرح یہ تشبیہات فنی خوبی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معانی کی توضیح و توجیہہ کا کام بھی کرتی ہیں۔ اُن کے ہاں تشبیہ کی مختلف شکلیں اور صورتیں ملتی ہیں۔ چند مثالیں...

دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے

دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے اشک پھر میری نگاہوں سے ہیں اکثر نکلے بات کرتا تھا ہمیشہ جو مسیحائی کی اس کے پہلو سے کئی آج ہیں خنجر نکلے چاند نکلا تو مرا چاند بھی آیا ہے نظر حُسن کی دوڑ میں دونوں ہی برابر نکلے زخم چھو کر وہ مرے ساتھ مسافر رویا غیر تو دل کے رفیقوں سے بھی بہتر نکلے جس گھڑی میری نگاہوں کو برستے دیکھا اس گھڑی قہقہے اس شخص سے اکثر نکلے کاش یوں ہو کہ وہ آئے تو نظر جھوم اٹھے اس کی آمد سے کبھی پیار کا منظر نکلے ہم نے اک عمر فریبوں میں گذاری عظمٰی موم سمجھا تھا جسے وہ تو ہیں پتھر نکلے   سیدہ عظمىٰ شاہ گردیزی    آزادکشمیر راولاکوٹ