دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے
اشک پھر میری نگاہوں سے ہیں اکثر نکلےبات کرتا تھا ہمیشہ جو مسیحائی کی
اس کے پہلو سے کئی آج ہیں خنجر نکلے
چاند نکلا تو مرا چاند بھی آیا ہے نظر
حُسن کی دوڑ میں دونوں ہی برابر نکلے
زخم چھو کر وہ مرے ساتھ مسافر رویا
غیر تو دل کے رفیقوں سے بھی بہتر نکلے
جس گھڑی میری نگاہوں کو برستے دیکھا
اس گھڑی قہقہے اس شخص سے اکثر نکلے
کاش یوں ہو کہ وہ آئے تو نظر جھوم اٹھے
اس کی آمد سے کبھی پیار کا منظر نکلے
ہم نے اک عمر فریبوں میں گذاری عظمٰی
موم سمجھا تھا جسے وہ تو ہیں پتھر نکلے
سیدہ عظمىٰ شاہ گردیزی
آزادکشمیر راولاکوٹ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں