نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نتہائے فکر

نتہائے فکر

انتخاب برائے تبصرہ

شاعر... منچندہ بانی 
گفتگو: افتخار راغب

عجیب تجربہ تھا بھیڑ سے گزرنے کا 
اسے بہانہ ملا مجھ سے بات کرنے کا 
★★★ پہلے مصرع میں تجربہ تھا کہنا درست نہیں ہے یہاں تجربہ ہوا کا محل ہے لیکن بھیڑ سے گزنے کا تجربہ ہوا کہنا بھی یہاں مناسب نہیں ہے. "بھیڑ سے گزرنے پر" کا محل ہے. "تجربہ تھا" ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے جیسے ہم کہیں کہ ہمیں مکان تعمیر کرنے کا تجربہ تھا لیکن وہان روڈ اور پل بنانے کا تجربہ درکار تھا.
 شعر کا دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے. شعر کا مضمون بھی عمدہ ہے لیکن زبان کی خرابی نے مزہ کرکرا کر دیا ہے.

پھر ایک موج تہہ آب اس کو کھینچ گئی 
تماشہ ختم ہوا ڈوبنے ابھرنے کا 
★★★ "کھینچ گئی" بڑی بھدی زبان ہے بلکہ کوئی زبان نہیں ہے یہاں "لے ڈوبی" کا محل ہے. دوسرا مصرع خوب ہے اگر لے ڈوبی کہا گیا ہوتا تو عمدہ شعر ہو جاتا جس میں حضرت نوح ع کے بیٹے کے ڈوبنے کا تلمیحی اشارہ بھی موجود ہے.

مجھے خبر ہے کہ رستہ مزار چاہتا ہے 
میں خستہ پا سہی لیکن نہیں ٹھہرنے کا 
★★★ "رستہ مزار چاہتا ہے" سے کیا مراد ہے؟ کیا رستہ چاہتا ہے کہ مسافر مر جائے یا شہید ہی ہو جائے اور اس کا مزار راستے پر بنے؟ دوسرا مصرع اچھا ہے لیکن پہلے مصرع نے بے لطف کر دیا ہے. میرے خیال سے یہاں "ٹھہرنے کا" کا پورا ابلاغ ہو رہا ہے اور یہ بھلا معلوم ہوتا ہے.

تھما کے ایک بکھرتا گلاب میرے ہاتھ 
تماشہ دیکھ رہا ہے وہ میرے ڈرنے کا 
★★★ میرے ہاتھ کے بعد "میں" کی کمی ہے ."میرے ہاتھ" کی جگہ شاعر "ہاتھوں میں" کہہ سکتا تھا جو ہر طرح سے مناسب ہوتا. "بکھرتا گلاب" سے کیا مراد ہے؟ میرے خیال سے بکھرتا کی جگہ چمکتا یا لرزتا یا مہکتا یا شگفتہ یا کچھ اور ہونا چاہیے تھا تب جا کر دوسرے مصرع کا تقاضا پورا ہوتا. دوسرا مصرع کمال کا ہے.

یہ آسماں میں سیاہی بکھیر دی کس نے 
ہمیں تھا شوق بہت اس میں رنگ بھرنے کا 
★★★ بہت عمدہ شعر ہے واہ وا!!!

کھڑے ہوں دوست کہ دشمن صفیں سب ایک سی ہیں 
وہ جانتا ہے ادھر سے نہیں گزرنے کا 
★★★ یہ شعر بھی اچھا ہے. "گزرنے کا" بھی بھلا لگ رہا ہے اور قبول کیا جانا چاہیے.

نگاہ ہم سفروں پر رکھوں سر منزل 
کہ مرحلہ ہے یہ اک دوسرے سے ڈرنے کا 
★★★ یہ شعر بھی اچھا ہے. البتہ "رکھوں" کی جگہ "رکھو" ہوتا تو شعر زیادہ اچھا ہوتا.

لپک لپک کے وہیں ڈھیر ہو گئے آخر 
جتن کیا تو بہت سطح سے ابھرنے کا 
★★★ ڈھیر ہونا محاورہ مناسب نہیں استعمال ہوا ہے. دوسرے مصرع سے اندازہ ہو رہا ہے کہ پانی میں ڈوبنے کی بات ہو رہی ہے اس لیے کوئی شخص پانی میں ڈھیر نہیں ہو سکتا. ڈھیر کی جگہ غرق بہتر متبادل ہوتا. دوسرے مصرع میں "تو" بے محل ہے اس کی جگہ تھا بہتر ہوتا. شعر کا مضمون اچھا ہے.


کراں کراں نہ سزا کوئی سیر کرنے کی 
سفر سفر نہ کوئی حادثہ گزرنے کا 
★★★ بہت مبہم شعر پے. بہت کوشش کہ بعد شعر کا جو مطلب نکل رہا ہے وہ بھی بے مطلب ہے.

کسی مقام سے کوئی خبر نہ آنے کی 
کوئی جہاز زمیں پر نہ اب اترنے کا 
★★★ شاعر ہی بتا سکتا ہے کہ کیا کہنا چاہتا ہے.

کوئی صدا نہ سماعت پہ نقش ہونے کی 
نہ کوئی عکس مری آنکھ میں ٹھہرنے کا 
★★★ اچھا شعر ہے. 

نہ اب ہوا مرے سینے میں سنسنانے کی 
نہ کوئی زہر مری روح میں اترنے کا 
★★★ مفہوم مبہم ہے

کوئی بھی بات نہ مجھ کو اداس کرنے کی 
کوئی سلوک نہ مجھ پہ گراں گزرنے کا 
★★★ مجھ پہ کی جگہ مجھ پر کا محل ہے. بے حسی کا بیان لگتا ہے. ٹھیک ہے شعر.

بس ایک چیخ گری تھی پہاڑ سے یک لخت 
عجب نظارہ تھا پھر دھند کے بکھرنے کا
★★★ چیخ کے لیے گرنا کہنا مناسب نہیں ہے. جو چیز گرتی ہے وہ اوپر سے نیچے آتی ہے. چیخ یا کوئی بھی آواز اس کی پابند نہیں ہے وہ چاروں طرف پھیلتی …

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...