میں نشے میں ہوں
…یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
میر تقی میر
.......
تاروں سے میرا جام بھرو! میں نشے میں ہُوں
اے ساکنانِ خُلد سنو! میں نشے میں ہُوں
کچھ پُھول کھل رہے ہیں سَرِ شاخِ میکدہ
تم ہی ذرا یہ پُھول چنو! میں نشے میں ہوں
ٹھرو! ابھی تو صُبح کا تارا ہے ضُو فِشاں
دیکھو! مجھے فریب نہ دو! میں نشے میں ہوں
نشہ تو موت ہے غمِ ہستی کی دُھوپ میں
بکھرا کے زُلف ساتھ چلو! میں نشے میں ہوں
میلہ یُونہی رہے یہ سرِ رہگزارِ زیست!
اب جام سامنے ہی رکھو! میں نشے میں ہوں
پائل چھنک رہی ہے نگارِ خیال کی!
کچھ اہتمامِ رقص کرو! مَیں نشے میں ہُوں
مَیں ڈگمگا رہا ہُوں بیابانِ ہوش میں
میرے ابھی قریب رہو! میں نشے میں ہوں
ہے صرف اِک تبسّم رنگیں بہت مُجھے
ساغر بدوش لالہ رُخوں! میں نشے میں ہوں.
فقیرساغرصدیقی
.......
ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں
جو چاہو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں
شہزادقیس
اب بھی دلا رہا ہوں یقین وفا مگر
میرا نہ اعتبار کرو میں نشے میں ہوں
اب تم کو اختیار ہے اے اہل کارواں
جو راہ اختیار کرو میں نشے میں ہوں
گرنے دو تم مجھے مرا ساغر سنبھال لو
اتنا تو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں
اپنی جسے نہیں اسے شاہدؔ کی کیا خبر
تم اس کا انتظار کرو میں نشے میں ہوں
شاہد کبیر
........
ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں
ذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوں
اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی
اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں
میں تم کو چاہتا ہوں تمہیں پر نگاہ ہے
ایسے میں اعتبار کرو میں نشے میں ہوں
ایسا نہ ہو کہ سخت کا ہو سخت تر جواب
یارو سنبھل کے وار کرو میں نشے میں ہوں
اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا
ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں
خود طرزؔ جو حجاب میں ہو اس سے کیا حجاب
مجھ سے نگاہیں چار کرو میں نشے میں ہوں
گنیش بہاری
.....
مجھ سے چناں_چنیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
عبد الحمید عدم
مجھ سے چناں چنیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
میں جو کہوں نہیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
انساں نشے میں ہو تو وہ چھپتا نہیں کبھی
ہر چند تم یقیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
یہ وقت ہے فراخ دلی کے سلوک کا
تنگ اپنی آستیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
بے اختیار چوم نہ لوں میں کہیں انہیں
آنکھوں کو خشمگیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
ہر چند میرے حق میں ہے یہ رحمت خدا
آنچل مرے قریں نہ کرو میں نشے میں ہوں
نشے میں سرخ رنگ تہی از خطر نہیں؟
ہونٹوں کو احمریں نہ کرو میں نشے میں ہوں
دیکھو میں کہہ رہا ہوں تمہیں پے بہ پے عدمؔ
مجھ کو بہت حزیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
عبدالحمید عدم
۔........
ہڑتال کرنے سے نہ ٹلو میں نشے میں ہوں
اے غیر ملکیوں کی کلو میں نشے میں ہوں
میرا جلوس لے کے چلو میں نشے میں ہوں
پھر خاک سب کے منہ پہ ملو میں نشے میں ہوں
''یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں''
''اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں''
سید محمد جعفری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں