نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میں نشے میں ہوں

میں نشے میں ہوں


یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں

مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں

یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں

معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
میر تقی میر
.......
تاروں سے میرا جام بھرو! میں نشے میں ہُوں
اے ساکنانِ خُلد سنو! میں نشے میں ہُوں

کچھ پُھول کھل رہے ہیں سَرِ شاخِ میکدہ
تم ہی ذرا یہ پُھول چنو! میں نشے میں ہوں

ٹھرو! ابھی تو صُبح کا تارا ہے ضُو فِشاں
دیکھو! مجھے فریب نہ دو! میں نشے میں ہوں

نشہ تو موت ہے غمِ ہستی کی دُھوپ میں
بکھرا کے زُلف ساتھ چلو! میں نشے میں ہوں

میلہ یُونہی رہے یہ سرِ رہگزارِ زیست!
اب جام سامنے ہی رکھو! میں نشے میں ہوں

پائل چھنک رہی ہے نگارِ خیال کی!
کچھ اہتمامِ رقص کرو! مَیں نشے میں ہُوں

مَیں ڈگمگا رہا ہُوں بیابانِ ہوش میں
میرے ابھی قریب رہو! میں نشے میں ہوں

ہے صرف اِک تبسّم رنگیں بہت مُجھے
ساغر بدوش لالہ رُخوں! میں نشے میں ہوں.
فقیرساغرصدیقی
.......
ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں
جو چاہو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں
شہزادقیس
اب بھی دلا رہا ہوں یقین وفا مگر
میرا نہ اعتبار کرو میں نشے میں ہوں

اب تم کو اختیار ہے اے اہل کارواں
جو راہ اختیار کرو میں نشے میں ہوں

گرنے دو تم مجھے مرا ساغر سنبھال لو
اتنا تو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں

اپنی جسے نہیں اسے شاہدؔ کی کیا خبر
تم اس کا انتظار کرو میں نشے میں ہوں
شاہد کبیر
........
ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں
ذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوں

اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی
اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں

میں تم کو چاہتا ہوں تمہیں پر نگاہ ہے
ایسے میں اعتبار کرو میں نشے میں ہوں

ایسا نہ ہو کہ سخت کا ہو سخت تر جواب
یارو سنبھل کے وار کرو میں نشے میں ہوں

اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا
ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں

خود طرزؔ جو حجاب میں ہو اس سے کیا حجاب
مجھ سے نگاہیں چار کرو میں نشے میں ہوں
گنیش بہاری
.....
مجھ سے چناں_چنیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
عبد الحمید عدم
مجھ سے چناں چنیں نہ کرو میں نشے میں ہوں
میں جو کہوں نہیں نہ کرو میں نشے میں ہوں

انساں نشے میں ہو تو وہ چھپتا نہیں کبھی
ہر چند تم یقیں نہ کرو میں نشے میں ہوں

یہ وقت ہے فراخ دلی کے سلوک کا
تنگ اپنی آستیں نہ کرو میں نشے میں ہوں

بے اختیار چوم نہ لوں میں کہیں انہیں
آنکھوں کو خشمگیں نہ کرو میں نشے میں ہوں

ہر چند میرے حق میں ہے یہ رحمت خدا
آنچل مرے قریں نہ کرو میں نشے میں ہوں

نشے میں سرخ رنگ تہی از خطر نہیں؟
ہونٹوں کو احمریں نہ کرو میں نشے میں ہوں

دیکھو میں کہہ رہا ہوں تمہیں پے بہ پے عدمؔ
مجھ کو بہت حزیں نہ کرو میں نشے میں ہوں

عبدالحمید عدم
۔........
ہڑتال کرنے سے نہ ٹلو میں نشے میں ہوں
اے غیر ملکیوں کی کلو میں نشے میں ہوں

میرا جلوس لے کے چلو میں نشے میں ہوں
پھر خاک سب کے منہ پہ ملو میں نشے میں ہوں

''یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں''
''اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں''
سید محمد جعفری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...