نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

منیر نیازی کی غزل ( بیان و بدیع کے تناظر میں)

تحریر: ڈاکٹر سمیرا اعجاز
پیشکش: ادارہ اردو ادب
یہ تحریر دو حصّوں مِیں پیش کی جائے گی۔

(پہلا حصّہ)


منیر نیازی کی غزل ( بیان و بدیع کے تناظر میں


منیر نیازی کی غزل روایت اور جدّت کے احساس سے مملو ہے۔ اُنھوں نے جہاں نئے موضوعات و اسالیب سے شاعری کو ہم کنار کیا وہیں فنّی سطح پر بھی تخلیقی قوت عطا کی۔ اُن کی غزل بیان و بدیع کے حسن سے مزین ہونے کی بنا پر ندرتِ فن، تازہ بیانی اور تازہ خیالی کی حامل ہے۔علم بیان کا اہم ستون تشبیہ ہے۔ فن تشبیہ مختلف چیزوں میں مشابہتیں دریافت کرنے کا نام ہے جو شاعری میں توضیح و توجیہہ، لطافت، حُسنِ ادا، شگفتگی اور جدت و ایجاز کی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔ منیر نیازی کی غزل میں موجود تشبیہات اُن کی فکری و فنی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اُنھوں نے فکر و فن کے امتزاج سے ایک حسین سنگم کی تخلیق کی ہے۔ اس لیے اُن کی تشبیہات محض تزئین و آرایش کا وسیلہ نہیں بلکہ فکری ڈھانچے کا جزو بن کر سامنے آتی ہیں۔ اس طرح یہ تشبیہات فنی خوبی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معانی کی توضیح و توجیہہ کا کام بھی کرتی ہیں۔ اُن کے ہاں تشبیہ کی مختلف شکلیں اور صورتیں ملتی ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
اُس کے ہونے سے ہُوا پیدا خیالِ جاں فزا
جیسے اِک مُردہ زمیں میں باغ پیدا ہو گیا

کیا اندھیرے میں روشنی سی رہی
رنگ لب کا شرار سا نکلا
پہلے شعر میں انسان مشبہ اور سانپ مشبہ بہ ہے اور وجہ شبہ دونوں کا مزاحمتِ خارجی پر خزانے کی اوٹ میں روپوش ہوتا ہے۔ انسان بھی روپے کے بل بوتے پر خود کو ناقابلِ تسخیر قوت سمجھتا ہے۔ دوسرے شعر میں محبوب کا ''خیالِ جاں فزا'' کی عاشق جاں سوز پر تاثیر بیان کی گئی ہے۔ محبوب کا خیالِ جاں فزا مشبہ ہے اور باغ مشبہ بہ۔ تیسرے شعر میں ''لب'' مشبہ اور ''شرار'' مشبہ بہ ہے۔
مشبہ اور مشبہ بہ طرفین تشبیہ کہلاتے ہیں۔ یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ حِسّی اور دوسرے عقلی۔ منیر نیازی کی غزل میں ان کی جملہ صورتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ حسیات میں سے حسِ باصرہ کی کارفرمائی زیادہ نمایاں ہے۔ وہ بصارت کے ذریعے ایسی تمثالیں تراشتے ہیں جن میں تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
نواحِ قریہ ہے سنسان شامِ سرما میں
کسی قدیم زمانے کی سرزمیں کی طرح
دیکھ کر حُسنِ دشت حیراں ہوں
یہ تو منظر دیار سے نکلا

عریاں ہوا ہے ماہ شبِ ابر و باد میں
جیسے سفید روشنی غاروں کے ساتھ ساتھ
پہلے شعر میں سنسان شامِ سرما میں شہر کے منظر کو قدیم زمانے کے کھنڈر سے تشبیہ دی ہے جس کا تعلق بصارت کے ساتھ ہے۔ دوسرے شعر میں حُسنِ دشت اور دیار کے درمیاں تشبیہ کا تعلق ہے۔ صحرا کی ویرانی کو دیار کی ویرانی و بے بسی کے ساتھ ملایا ہے۔ آخری شعر میں باصرہ کی خوب صورت مثال ملتی ہے۔ شب ابر و باد میں چاند کا نکلنا ایسا منظر ہے جو ایک دوسرے منظر کی جانب متوجہ کرتا ہے جس میں غاروں کے ساتھ ساتھ سفید روشنیکا منظر مصور ہے۔ اِن تمام مثالوں میں طرفین تشبیہ کا تعلق دیکھنے کی حِس کے ساتھ ہے۔
طرفین تشبیہ کی ایک شکل عقلی ادراک کی ہے جس میں حواسِ خمسہ کی بجائے عقل کے ذریعے طرفین تشبیہ کا تعین ہوتا ہے۔ منیر نیازی کی غزل میں تشبیہ عقلی کی صورتیں بھی جلوہ گر ہیں اور حِسّی و عقلی دونوں کے امتزاج سے بھی تشبیہ کی مختلف شکلیں جنم لیتی ہیں۔
سحر ہے موت میں منیرؔ جیسے ہے سحر آئینہ
ساری کشش ہے چیز میں اپنی نظیر کے سبب

اثر ہے اُس کی نظر کا مجھ پر
شرابِ گل کے ایاغ جیسا

مثالِ سنگ کھڑا ہے اُسی حسیں کی طرح
مکاں کی شکل بھی دیکھو دل مکیں کی طرح
پہلے شعر میں عقل اور حواس دونوں کا امتزاج ہے۔ موت مشبہ ہے جس کا ادراک عقل و وجدان کے ذریعے ممکن ہے جب کہ ''آئینہ'' مشبہ بہ ہے جس کا تعلق حسِ بصارت کے ساتھ ہے۔ دوسرے شعر میں بھی یہی صورت ہے۔ مشبہ محبوب کی نشیلی نظر ہے اور مشبہ بہ شراب کا پیالہ ہے۔ تیسرے شعر میں طرفین تشبیہ حسی ہیں۔ مکیں اور مکاں دونوں سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندہ ہیں جنھیں بے حسی کی بنیاد پر سنگ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے

دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے اشک پھر میری نگاہوں سے ہیں اکثر نکلے بات کرتا تھا ہمیشہ جو مسیحائی کی اس کے پہلو سے کئی آج ہیں خنجر نکلے چاند نکلا تو مرا چاند بھی آیا ہے نظر حُسن کی دوڑ میں دونوں ہی برابر نکلے زخم چھو کر وہ مرے ساتھ مسافر رویا غیر تو دل کے رفیقوں سے بھی بہتر نکلے جس گھڑی میری نگاہوں کو برستے دیکھا اس گھڑی قہقہے اس شخص سے اکثر نکلے کاش یوں ہو کہ وہ آئے تو نظر جھوم اٹھے اس کی آمد سے کبھی پیار کا منظر نکلے ہم نے اک عمر فریبوں میں گذاری عظمٰی موم سمجھا تھا جسے وہ تو ہیں پتھر نکلے   سیدہ عظمىٰ شاہ گردیزی    آزادکشمیر راولاکوٹ