نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خصوصی تحریر - از قلم ناہید ورک

(خصوصی تحریر (از قلم ناہید ورک)

پیشکش: ادارہ اردو ادب

شاعرات کی نظموں میں جدید عورت کا تصوّر

پاکستان کے تاریخی، سیاسی اور قومی شعور میں خواتین اہلِ قلم کی شاعری نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ شاعری نہ صرف تحریکِ نسواں کی ترقی پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ مُلک کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی تفصیلی تنقید فراہم کرتی ہے۔

عصرِ حاضر میں بیشتر خواتین شاعرات کی نظم روایت سے ہٹ کر اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنے اندر سمو چکی ہے جو بنیادی طور پر زندگی کی سچائیوں کی تلاش ہے ـ خواتین شاعرات نے بحیثیت عورت اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کی طرف بہت توجہ کی ہے اور اپنے تانیثی تجربے، مشاہدے اور احتجاج کو اپنی آزاد نظم کا حصہ بنایا ہےـ خواتین کی آزاد نظموں میں لفظوں کی حُسن کاری کی بجائے عصری احساسات بغیر کسی لفظی تصنع کے بے باکی سے بیان کئے گئے ہیں ـ آزاد نظم لکھنے والی شاعرات نے اپنے احساس کے اظہار کیلئے علامات اور استعارے اپنے گردوپیش سے لئے ہیں جن سے بحیثیت عورت اس کو واسطہ رہتا ہے ـ

اُردو ادب کی معروف و ممتاز شاعرات میں سے چند اہم نام زہرہ نگاہ، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، سارہ شگفتہ، شبنم شکیل، ثمینہ راجہ، نسرین انجم بھٹی اور پروین شاکر کے شمار ہوتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں پاکستان اور بیرونِ ممالک میں پاکستانی نژاد اردو کی جو شاعرات نمایاں مقام رکھتی ہیں اُن میں فاطمہ حسن، نوشی گیلانی، حمیدہ شاہین، نسیم سید، شاہین مفتی، عشرت آفرین، حمیرا رحمان، شاہدہ حسن، مونا شہاب،عارفہ شہزاد، ثروت زہرہ، صبیحہ صبا، یاسمین حمید، ناہید ورک، شاہدہ حسن، گلناز کوثر اور الماس شبی کے ہیں، ان شاعرات نے معاشرے میں خواتین کے اہم مسائل کو واضح کرنے کےلے شاعری کو بطور آلہ استعمال کیا ہے۔ جن کا دوسری صورت میں کُھل کر اظہار کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔

ہماری سینئر شاعرات کی شاعری کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے اور لکھا جا چکا ہے۔ میں اختصار سے کام لیتے ہوئے عہدِ حاضر کی چند معروف شاعرات کی نظمیہ شاعری پر بات کروں گی اور نمونے کے طور پر ان شاعرات کی مختصر نظمیہ تخلیقات پیش کروں گی۔

زہرہ نگاہ
طاقتور سماجی اور سیاسی تبصروں کے لیے نسائی منظر کشی اور محاوروں کا استعمال ان کے ہاں بکثرت ملتا ہے۔ یہ نسائی شاعری یا حقوقِ نسواں کی علمبردار شاعرہ کا لیبل چسپاں کیے بغیر ایک عام عورت کی زبان میں بات کرتی ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف معاشرے میں موجود سنگین مسائل کا احاطہ کرتی ہے بلکہ یہ روز مرہ زندگی کے دکھ سکھ ، محبت اور دوستی کی پیچیدگیوں کو بھی نہایت سُلجھے ہوئے انداز میں پروجیکٹ کرتی ہیں۔ ایک خاتون اور ایک شاعرہ ہونے کے ناطے ان کے ایک ایک لفظ میں سمجھوتوں اور مجبوریوں کی داستان رقم ہے۔ ان کی نظم "سمجھوتہ" ایک ایسی ہی نظم ہے جس میں سمجھوتوں کی کئی منزلیں طے کرنے کے بعد ایک سادہ پُرسکون مسکان چہرے پر آتی ہے، ایسے سمجھوتے جو ہر عورت کو نا چاہتے ہوئے بھی کرنے پڑتے ہیں۔

سمجھوتہ

ملائم گرم سمجھوتے کی چادر

یہ چادر میں نے برسوں میں بُنی ہے

کہیں بھی سچ کے گُل بوٹے نہیں ہیں

کسی بھی جھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے

اسی سے میں بھی تن ڈھک لوں گی اپنا

اسی سے تم بھی آسودہ رہو گے

نہ خوش ہو گے، نہ پسمردہ ہوگے

فہمیدہ ریاض
یہ ایسی شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں جن کے ہاں غیر روایتی تخیلات، غیرروایتی اسلوب اور احساسات شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں سماجی شعور کے ساتھ ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ بھی ہے۔ سماجی بے حسی، عصری کرب، اور احساسِ تنہائی جیسے عوامل ان کی شاعری کی پزیرائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مضامین اگرچہ غیر روایتی ہیں مگر ان کی سوچ قاری کو ایک دعوتِ فکر بھی دیتی ہے۔ ان کے ہاں جہاں احساسِ اپنائیت ملتا ہے وہیں ایک احساسِ اجنبیت بھی جلوہ افروز ہے جو عصری مزاج کی غمازی کرتا ہے۔ فہمیدہ ریاض اپنی شاعری کے ذریعے اُس نئی قوم کا خواب دیکھتی ہے جو منافقت اور ہٹ دھرم معاشرے سے بالاتر ہے جس نے معاشرے میں عورت کی حیثیت کو جکڑ رکھا ہے۔ فہمیدہ ریاض کے پہلے شعری مجموعے پتھر کی زبان نے اردو نظم کے قاری کو چونکا دیا،ان کی شاعری میں پہلی بار کسی عورت نے اپنی جسمانی ضرورتوں کا اظہار کیا ۔ ایک ایسے معاشرے میں،جہاں عورت کو ملکیت تصور کیا جاتا ہو اور اس کے انسانی جزبات کو نظر انداز کیا جاتا ہو،یہ آواز مبارزت طلب محسوس ہوئی۔  ان کی نظم

چادر اور چاردیواری کو آپ کے سامنے لاتی ہوں۔  یہ نظم وہ نوحہ ہے جس کی تفسیر خود یہی نظم ہے۔

چادر اور چار دیواری

حضور میں سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ مجھ کو کیوں بخشتے ہیں، بصد عنایت!

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ میں ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گنہگار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مُہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جان کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرہ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہُوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجئے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کئ بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی اپنی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دلخراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کوں ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے!

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہیں

دمِ صبح دربدر ہیں

یہ باندیاں ہیں

حضور کے نطفئہ مبارک کے نصف ورثے سے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار بارکی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دستِ شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلہِ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہُوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتلِ انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشا

اب اس تماشے کو ختم کیجئے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے میری، نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشانِ شہوت

حیات کی شاہرہ پر جگمگا رہی ہے میری ذہانت

زمیں کے رُخ پر جو ہے پسینہ تو جھلماتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں، یہ چادر، گلی سڑی لاش کو مبارک

کُھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدمِ نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...