نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں کیسے آتا هے?

?قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں کیسے آتا هے


شناختی کارڈ

قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی پہچان ہے
مگر بہت ہی کم لوگ
شناختی کارڈ نمبر کی ٹیکنالوجی
اور
اسکے شناخت کے خودکار نظام سے واقف ہوں گے.
اگرچه
آپ سب لوگ تقریبا روز اپنا شناختی کارڈ دیکھتے هونگے،
لیکن آج تک
آپ کو اس پر لکھے
13ہندسو ں کے کوڈ کا مطلب کسی نے نہیں بتایا ہو گا۔
درج ذیل تحریر آپکو شناختی کارڈ نمبر کے متعلق معلومات فراهم کرے گی.
شناختی کارڈ نمبر کے
شروع کے پہلے پانچ نمبر
هم مثال کے طور پر
ایک شناختی کارڈ نمبر لکھتے هیں
15101-**-
اس میں سب سے پہلے آنے والا پہلا نمبر
یعنی 1
جو کہ صوبے کی نشاندہی کرتاہے.
یعنی جن لوگوں کے
شناختی کارڈز کے نمبر 
1 سے شروع ہوتے ہیں،
وہ لوگ
صوبه خیبر پختون خواہ کے رہائشی ہیں.
اسی طرح
اگر آپ کے شناختی کارڈ کا نمبر 
2 سے شروع ہو رہا ہے،
تو آپ فاٹا کے رہائشی ہیں۔
اسی طرح
پنجاب کیلئے 3،
سندھ کیلئے 4،
بلوچستان کیلئے 5،
اسلام آباد کیلئے 6،
گلگت بلتستان کیلئے 7.
اس پانچ ہندسوں کے کوڈ میں
دوسرے نمبر پر آنے والا ہندسہ
آپ کے ڈویژن کو ظاہر کرتاہے.
مثال کے طور پر
اوپر دئیے گئے کوڈ میں
دوسرے نمبر پر 
5 کا ہندسہ ہے،
جو
ملا کنڈ ڈویژن
کو ظاہر کرتاہے.
جبکہ باقی تین ہندسے
آپ کے متعلقه ضلع،
اس ضلع کی متعلقه تحصیل،
اور یونین کونسل نمبر
کو ظاہر کرتے ہیں۔
درمیان میں لکھا ہوا
7 نمبر پر مشتمل کوڈ
**-1234567-
یه درمیانه کوڈ
آپ کے خاندان نمبر کو ظاہر کرتاہے.
هر خاندان کے تمام افراد
جو ایک دوسرے سے خونی رشتوں کے تحت جڑے هوتے هیں،
ان سب افراد کا باهمی تعلق کا تعین
اسی درمیانے کوڈ سے هوتا هے.
اسی کوڈ کے ذریعے
کمپیوٹرائزڈ شجره
یعنی Family Tree تشکیل پاتا هے.
آخر میں - کے بعد آنے والا نمبر
**-**-1
یه آخری هندسه
آپ کی جنس کو ظاہر کرتا ہے
مردوں کیلئے
یہ نمبر ہمیشہ طاق میں ہو گا.
مثال کے طور پر
1,3,5,7,9
اور
خواتین کیلئے
یہ نمبر جفت میں ہوگا،
مثال کے طور پر
2,4,6,8
اس طرح
نادرا کے خودکار نظام کے تحت
هم سب کا
قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں آتا هے..!!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...