نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

موسم_الرٹ

#موسم_الرٹ🌧️🌩️💧☔

ملک میں مزید بارشوں برف باری کی پیشگوئی!

🔴 دورانیہ 7 تا 9 جنوری 2023:

تازہ ترین صورتحال کے مطابق اس وقت ملک کے بالائی علاقوں  وادی کشمیر، گلگت بلتستان اور ملحقہ پہاڑی علاقوں  پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ہلکے بادل موجود !

🔴 ملک کے بالائی سیاحتی مقامات وادی کشمیر ،گلگت بلتستان، بلوچستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں کہیں کہیں بارشِ  اور  بلند پہاڑوں پر برف باری کا امکان.

تفصیلات کے مطابق مغربی سلسلہ اس وقت ایران اور اس سے ملحقہ علاقوں پر موجود آج شام رات بلوچستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوگا جس کے زیر اثر:

🔴 گلگت ، کشمیر :
                              میں اکثر مقامات پر جبکہ  خیبرپختونخوا کے بالائی،قبائلی  علاقوں اور سیاحتی مقامات پر درمیانی سے ہلکی بارشِ پہاڑوں پر برفباری کا امکان ۔

🔴 پنجاب:
                پنجاب کے بیشتر علاقوں میں ہلکے بادل چھائے رہنے کا امکان اس دوران شمالی وسطی پنجاب اور خطہ پوٹھوار میں ہلکی بارشِ کا امکان جنوبی پنجاب میں خاطر خواہ بارشِ کا کوئی امکان نہیں ۔
              اس دوران ڈی جی خان، بہاولپور ،ملتان، سمیت جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان.
                
🔴 سندھ اور بلوچستان:
                            بلوچستان کے بیشتر مغربی شمالی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارشِ کا امکان جبکہ کوئٹہ سمیت شمال مغربی علاقوں میں ہلکی برفباری بھی متوقع ہے۔
                             صوبہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور نسبتاً سرد رہنے کا امکان اس دوران سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں خاطر خواہ بارش کا کوئی امکان نہیں.
                            پاکستان کے تمام ساحلی علاقوں میں موسم صاف رہنے کا امکان خاطر خواہ بارش کا کوئی امکان نہیں.
                            بارشوں کے بعد ملک میں سردی کی شدت بڑھنے کا امکان اور درجہ حرارت میں کمی ممکن ہے۔
                            جبکہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں صبح کے اوقات میں ہلکی دھند پڑنے کا امکان۔

مزید اپڈیٹس اور موسم کی مستند فورکاسٹ کے لیے جڑے رہیئے ویدر والے کے ساتھ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...