نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ماما یہ اگــــــر کا کیا مطلب ہے؟

 جــــــا بیٹا یہ لے 20 روپے اور سامنے والی دکان سے چینی لے آ اور دکان والے سے کہہ دینا، اس کے پیسے بہت جلد مل جائیں گے🥺


نہیں ماما میں نہیں جاؤں گا ! دکان والا گالیاں دیتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کھ اپنی ماں کو بھیج اور کہتا ہے اگــــــر چاہئے تو سب کچھ مفت مل سکتا ہے😖


ماما یہ اگــــــر کا کیا مطلب ہے؟

وہ چپ ہوگئی کہتی بھی تو کیا کہتی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے . اس کی شادی ہوئے صرف پانچ سال ہوئے تھے کہ اس کے شوہر کی ایک ایکسڈنٹ میں موت ہوگئی😓


دنیا بھی کیا چیز ہے !! پہلے اس کو خاندان میں بیسٹ بھابھی کہا جاتا تھا🥀

لیکن اب اُسی عورت کو فقیرنی کہتے تھے😲

جب دیکھو منہ اٹھا کر مانگنے آجاتی ہے۔ محلے میں چند گھر اسکی مدد کر دیتے تھے . جن کا اس نے ساتھ برے حالات میں دیا تھا😤


اس کے ماں باپ زندہ نہیں تھے . اس نے بھائیوں کی مرضی کے خلاف اپنی پسند بتائی تھی انہوں نے ہاں تو کر دی اور خوش بھی تھے کہ چلو جان چھوٹ جائے گی اور اب کوئی ساتھ نہ دیتا تھا🤢


وہی دکان والا جب نیا نیا محلے میں آیا تو اس کے شوہر کے پاس آیا اور کہا میری دکان چلنے میں مدد کر دو اور انکو باجی باجی کہا کرتا تھا🤯

آج وہی اگر کہہ رہا تھا . اسکو اگر کا مطلب سمجھ آرہا تھا کیونکہ آگے اسکو بہت سی جگہ اگر سننا تھا😢


وہ آج سمجھ چکی تھی جب شوہر مر جائے اور تمام رستے بند ہو جائیں تو اسلامی معاشرے میں بھی عورت کو اگر کا سہارا لینا پڑ جاتا ہے کیونکہ مرد ذات گھاٹے کا سودا نہیں کرتی🧐

کیونکہ اگر اسکو آخرت پہ یقین ہو جائے تو وہ کب کی تمام برائی کے اڈوں کو بند کروا کر ان عورتوں کی عزت سے کھیلنے کی بجائے ان کی مدد کرے . لیکن کیوں ہماری تو عزت ہمارے گھر محفوظ ہے نا!!

اگر ہم خود کو مرد ذات کہتے ہیں تو مرد ذات بن کر دکھائیں . کہیں ایسا نہ ہو کبھی برا وقت آئے اور جو اگــــــر ہم دوسری کی عزت کو کہتے ہیں کہیں وہ ہماری عزت کو نہ سننا پڑے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...