نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2018 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

گزشتہ سے پیوستہ :ڈراما - من چلے کا سودا

گزشتہ سے پیوستہ (ڈراما نمبر ۱) خدا کی بستی (ڈراما نمبر ۲) آنگن ٹیڑھا (ڈراما نمبر ۳) جانگلوس (ڈراما نمبر۴) وارث (ڈراما نمبر ۵) تنہائیاں (ڈراما نمبر۶) اندھیرا اُجالا (ڈراما نمبر ۷) دھواں (ڈراما نمبر ۸) آنچ مُرَتِّب: مہران سانول (کراچی) پیشکش: اِدارہ اُردو اَدب پاکستان ڈراما نمبر۹ من چلے کا سودا پی ٹی وی کا ایک اور کلاسیک ڈرامہ جس پر اس زمانے میں کافی اعتراضات بھی سامنے آئے۔ معروف مصنف اشفاق احمد نے اسے تحریر کیا جو روحانیت کی جانب لگاﺅ رکھتے تھے جس کا اظہار اس ڈرامے میں بھی ہوتا ہے۔ فردوس جمال، خیام سرحدی اور قوی خان کو لے کر ہدایتکار راشد ڈار نے اس ڈرامے کو تیار کیا جس میں ایک ماڈرن شخص کو اپنی زندگی سے بیزاری کے بعد صوفی ازم اور روحانیت کی جانب مائل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سفر پر اکثر حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ ڈرامہ اپنے دور میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔  جاری ہے ۔۔۔۔۔

دبستان لکھنؤ

دبستان لکھنؤ دبستان لکھنؤ سے مراد شعر و ادب کا وہ رنگ ہے جو لکھنؤ کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنؤ مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز دہلی اور دکن شہرت حاصل کر چکے تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا پس منظر سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لیے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔ سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لیے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دو...

سلسلہ: شعر❣شاعر❣ شعور

سلسلہ: شعر❣شاعر❣ شعور تاریخ: ۱۸ مارچ ۲۰۱۸ بروز اتوار ردیف اور قافیہ دراصل شعری اصطلاحات کے اجزاء ہیں۔ ان کے بغیرصنفِ غزل /نظم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔جس طرح شاعری میں بحور اور زمیں خاص اہمیت کی حامل ہیں بالکل اسی طرح ردیف اور قافیہ صنفِ غزل / نظم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ ان کے بغیر اصنافِ نظم میں ترنم بھی پیدا نہیں ہوتا۔ قافیہ لفظ قفو سے ہے جس کے معنی پیروی کرنے کےاور پیچھے آنے والے کے ہیں۔اردو ادب میں قافیہ ایسے الفاظ کو کہا جاتا ہے جو اشعار میں الفاظ کے ساتھ غیر مسلسل طورپر آخر میں بار بار آتے ہیں۔یہ الفاظ بعض وقت غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں مگر ہٹا دیئے جانے پر بھی خلا پیدا کر جاتے ہیں۔اس لیے ترنم اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے قافیہ کا استعمال لازم و ملزوم تصور کیا جاتا یے۔اس کی ایک خوبصورت مثال ملاحظہ فرمائیں؛ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے مندرجہ بالا شعر میں ۔ہوا۔ اور ۔دوا۔ قوافی ہیں۔ ردیف کےمعنی گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والے کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد قافیہ کے بعد آنے والے وہ الفاظ ہیں جو مکرر آتے ہوں۔ اور یکساں بھی...

ٹرینڈ سیٹر شاعر ، کالم نگار جناب محمد اظہار الحق صاحب کا جھنجھوڑ دینے والا آرٹیکل

ٹرینڈ سیٹر شاعر ، کالم نگار جناب محمد اظہار الحق صاحب کا جھنجھوڑ دینے والا آرٹیکل ۔ تلخ نوائ میری وفات سرما کی ایک یخ زدہ  ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات  ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح  ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی ۔ڈاکٹر نے دوائیں  تبدیل کیں  مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے۔بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔جو بیٹا پاکستان میں تھا'وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں  دونوں یونیسف کے سروےکے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف  ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔رہے  دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں 'انہیں  پریشان کرنے کی کوئی تُک  نہ تھی !یوں  صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم!جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا  جاتا تھا۔ عصر ڈھلنے لگی تو مجھے  محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہورہا ہے۔میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی '...

اردو کے سینئر ادیب اور ناول نگار , 100 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

اردو کے سینئر ادیب اور ناول نگار انتقال کرگئے کینیڈا میں مقیم اردو کے سینئر ادیب اور ناول نگار , 100 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ اکرام بریلوی 30 جون 1918 کو پیدا ہوئے تھے۔ انکا اصل نام سید سعادت حسین کاظمی تھا لیکن انہوں نے قلمی نام اکرام بریلوی اختیار کیا تھا۔ تصانیف و تالیف رہ نورد شوق، کراچی، بختیار اکیڈمی، جون 2012ء، 324 (ناول) عشرت آفریں کی شاعری  مومن خاں مومن  تیسری نسل ، ، ، (افسانہ) برف کی دیوار ، ، ، (ڈراما تیز ہوا میں پتے ، ، ، (افسانہ) کانٹے کی زبان ، ، (ناولٹ) حسرتِ تعمیر  سرسری تم جہاں سے گذرے ناشر: بختیار اکیڈمی کراچی جوش: شخص و شاعر (1998ء) تنقید ازہ آئینہ جمع تفریق تقسیم ،کراچی، البلال ادب پبلیکیشنز، 1999ء، (ناول) پل صراط، کراچی، مکتبہ افکار، جنوری 1988ء، 43 (ناول) (1) ابتدائیہ از محمد علی صدیقی بتاریخ یکم ستمبر 1987ء 13- 7 (2) مملوکہ، کراچی، کتب خانہ انجمن ترقی اُردو پاکستان  شرار سنگ (1957ء) مختصر ڈرامے سوداگر (1957ء) ڈرامہ گردش (1956ء) ناول نیا اُفق (1946ء) ناول فانی بدایونی: شخصیت اور شاعری نا...

قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں کیسے آتا هے?

?قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں کیسے آتا هے شناختی کارڈ قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی پہچان ہے مگر بہت ہی کم لوگ شناختی کارڈ نمبر کی ٹیکنالوجی اور اسکے شناخت کے خودکار نظام سے واقف ہوں گے. اگرچه آپ سب لوگ تقریبا روز اپنا شناختی کارڈ دیکھتے هونگے، لیکن آج تک آپ کو اس پر لکھے 13ہندسو ں کے کوڈ کا مطلب کسی نے نہیں بتایا ہو گا۔ درج ذیل تحریر آپکو شناختی کارڈ نمبر کے متعلق معلومات فراهم کرے گی. شناختی کارڈ نمبر کے شروع کے پہلے پانچ نمبر هم مثال کے طور پر ایک شناختی کارڈ نمبر لکھتے هیں 15101-**- اس میں سب سے پہلے آنے والا پہلا نمبر یعنی 1 جو کہ صوبے کی نشاندہی کرتاہے. یعنی جن لوگوں کے شناختی کارڈز کے نمبر  1 سے شروع ہوتے ہیں، وہ لوگ صوبه خیبر پختون خواہ کے رہائشی ہیں. اسی طرح اگر آپ کے شناختی کارڈ کا نمبر  2 سے شروع ہو رہا ہے، تو آپ فاٹا کے رہائشی ہیں۔ اسی طرح پنجاب کیلئے 3، سندھ کیلئے 4، بلوچستان کیلئے 5، اسلام آباد کیلئے 6، گلگت بلتستان کیلئے 7. اس پانچ ہندسوں کے کوڈ میں دوسرے نمبر پر آنے والا ہندس...

الوداع اسٹیفن ہاکنگ

"آہ! 😞 الوداع اسٹیفن ہاکنگ" غیر معمولی ذہانت کی بدولت آئن اسٹائن کے ہم پلہ سائنسدان قرار دیے جانے والے اسٹیفن ہاکنگ آج آئن سٹائن کے جنم  دن پر 76 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ "میں نے دیکھا ہے، وہ لوگ جو یہ ضد کرتے ہیں کہ سب کچھ تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے اور اسے بدل نہیں سکتے۔ وہ لوگ بھی روڈ پار کرتے وقت پہلے دائیں بائیں دیکھتے ہیں"۔ اسٹیفن ہاکنگ کا بڑا کارنامہ کائنات میں ایک ایسا "بلیک ہول" دریافت کرنا تھا جس سے روزانہ نئے سیارے جنم لیتے ہیں، اس بلیک ہول سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو کائنات میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بھی ہیں۔ ان شعاوں کو اسٹیفن ہاکنگ کے نام کی مناسبت سے " ہاکنگ ریڈی ایشن " کہا جاتا ہے۔ 1963 میں اسٹیفن ہاکنگ جب کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے ایک دن سیڑھیوں سے پھسل گئے اور پھر طبی معائنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پیچیدہ ترین بیماری " موٹر نیوران ڈزیز " میں مبتلا ہیں۔ 1965ء میں وہ وہیل چیئر تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اس کے بعد گردن دائیں جانب ڈھلکی اور دوبارہ سیدھی نہ ہو سکی۔ وہ خوراک اور واش روم کیلئے بھی...

آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا

آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟ استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے  اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم، دوسرے کو پچھتر، تیسرے کو ساٹھ، چوتھے کو پچاس،  پانچویں کو پچیس،  چھٹے کو دس،  ساتویں کو پانچ،  اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا۔ لڑکے بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟ استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔ ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔ پہلے والے ل...

نتہائے فکر

نتہائے فکر انتخاب برائے تبصرہ شاعر... منچندہ بانی  گفتگو: افتخار راغب عجیب تجربہ تھا بھیڑ سے گزرنے کا  اسے بہانہ ملا مجھ سے بات کرنے کا  ★★★ پہلے مصرع میں تجربہ تھا کہنا درست نہیں ہے یہاں تجربہ ہوا کا محل ہے لیکن بھیڑ سے گزنے کا تجربہ ہوا کہنا بھی یہاں مناسب نہیں ہے. "بھیڑ سے گزرنے پر" کا محل ہے. "تجربہ تھا" ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے جیسے ہم کہیں کہ ہمیں مکان تعمیر کرنے کا تجربہ تھا لیکن وہان روڈ اور پل بنانے کا تجربہ درکار تھا.  شعر کا دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے. شعر کا مضمون بھی عمدہ ہے لیکن زبان کی خرابی نے مزہ کرکرا کر دیا ہے. پھر ایک موج تہہ آب اس کو کھینچ گئی  تماشہ ختم ہوا ڈوبنے ابھرنے کا  ★★★ "کھینچ گئی" بڑی بھدی زبان ہے بلکہ کوئی زبان نہیں ہے یہاں "لے ڈوبی" کا محل ہے. دوسرا مصرع خوب ہے اگر لے ڈوبی کہا گیا ہوتا تو عمدہ شعر ہو جاتا جس میں حضرت نوح ع کے بیٹے کے ڈوبنے کا تلمیحی اشارہ بھی موجود ہے. مجھے خبر ہے کہ رستہ مزار چاہتا ہے  میں خستہ پا سہی لیکن نہیں ٹھہرنے کا  ★★★ "رستہ مزار چاہتا ہے" سے کیا...

مراقبہ

موضوع: مراقبہ سلسلہ: معلوماتی تحریر مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی حصّہ اوّل سوال: مراقبہ کیا ہے؟ جواب: انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ ایک دماغ جنت کا دماغ ہے یعنی اس کے ذریعے کوئی بندہ جنت سے آشنا ہوتا ہے۔ اور جنت کی زندگی گزارتا ہے۔ دوسرا دماغ وہ دماغ ہے جو آدم کی نافرمانی کے بعد وجود میں آیا۔ اور آدم نے نافرمانی کے بعد محسوس کیا کہ میں ننگا ہوں۔ ان محسوسات یا نافرمانی کے نتیجے میں جنت نے آدم کو رد کر دیا اور آدم زمین پر پھینک دیا گیا۔ تصوف میں جتنے اسباق اور اوراد و وظائف اور اعمال و اشغال اور مشقیں رائج ہیں ان سب کا منشاء یہ ہے کہ آدم زاد اپنا کھویا ہوا وطن واپس حاصل کرے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان تمام اوراد و وظائف اور اعمال و اشغال اور مشقوں کو نماز میں سمو دیا ہے۔ ہم جب نماز کی حقیقت اور نماز کے ارکان پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نماز میں زندگی کے ہر عمل کو سمو دیا گیا ہے۔ چونکہ قیام صلوٰۃ کا ترجمہ ربط قائم کرنا ہے اس لئے ضروری ہوا کہ کوئی ایسا عمل تجویز کیا جائے جس عمل میں زندگی کی تمام حرکات و سکنات موجود ہوں اور ہر ...

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی

اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی  آج اردو زبان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی منائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنی  زندگی وقف کرنے والے اپنے دور کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928ءکو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ءمیں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ”دستور“ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے ...

منیر نیازی کی غزل ( بیان و بدیع کے تناظر میں)

تحریر: ڈاکٹر سمیرا اعجاز پیشکش: ادارہ اردو ادب یہ تحریر دو حصّوں مِیں پیش کی جائے گی۔ (پہلا حصّہ) منیر نیازی کی غزل ( بیان و بدیع کے تناظر میں منیر نیازی کی غزل روایت اور جدّت کے احساس سے مملو ہے۔ اُنھوں نے جہاں نئے موضوعات و اسالیب سے شاعری کو ہم کنار کیا وہیں فنّی سطح پر بھی تخلیقی قوت عطا کی۔ اُن کی غزل بیان و بدیع کے حسن سے مزین ہونے کی بنا پر ندرتِ فن، تازہ بیانی اور تازہ خیالی کی حامل ہے۔علم بیان کا اہم ستون تشبیہ ہے۔ فن تشبیہ مختلف چیزوں میں مشابہتیں دریافت کرنے کا نام ہے جو شاعری میں توضیح و توجیہہ، لطافت، حُسنِ ادا، شگفتگی اور جدت و ایجاز کی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔ منیر نیازی کی غزل میں موجود تشبیہات اُن کی فکری و فنی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اُنھوں نے فکر و فن کے امتزاج سے ایک حسین سنگم کی تخلیق کی ہے۔ اس لیے اُن کی تشبیہات محض تزئین و آرایش کا وسیلہ نہیں بلکہ فکری ڈھانچے کا جزو بن کر سامنے آتی ہیں۔ اس طرح یہ تشبیہات فنی خوبی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معانی کی توضیح و توجیہہ کا کام بھی کرتی ہیں۔ اُن کے ہاں تشبیہ کی مختلف شکلیں اور صورتیں ملتی ہیں۔ چند مثالیں...

میں نشے میں ہوں

میں نشے میں ہوں … یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں میر تقی میر ....... تاروں سے میرا جام بھرو! میں نشے میں ہُوں اے ساکنانِ خُلد سنو! میں نشے میں ہُوں کچھ پُھول کھل رہے ہیں سَرِ شاخِ میکدہ تم ہی ذرا یہ پُھول چنو! میں نشے میں ہوں ٹھرو! ابھی تو صُبح کا تارا ہے ضُو فِشاں دیکھو! مجھے فریب نہ دو! میں نشے میں ہوں نشہ تو موت ہے غمِ ہستی کی دُھوپ میں بکھرا کے زُلف ساتھ چلو! میں نشے میں ہوں میلہ یُونہی رہے یہ سرِ رہگزارِ زیست! اب جام سامنے ہی رکھو! میں نشے میں ہوں پائل چھنک رہی ہے نگارِ خیال کی! کچھ اہتمامِ رقص کرو! مَیں نشے میں ہُوں مَیں ڈگمگا رہا ہُوں بیابانِ ہوش میں میرے ابھی قریب رہو! میں نشے میں ہوں ہے صرف اِک تبسّ...

دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے

دل کی آغوش سے یوں درد کے تاثر نکلے اشک پھر میری نگاہوں سے ہیں اکثر نکلے بات کرتا تھا ہمیشہ جو مسیحائی کی اس کے پہلو سے کئی آج ہیں خنجر نکلے چاند نکلا تو مرا چاند بھی آیا ہے نظر حُسن کی دوڑ میں دونوں ہی برابر نکلے زخم چھو کر وہ مرے ساتھ مسافر رویا غیر تو دل کے رفیقوں سے بھی بہتر نکلے جس گھڑی میری نگاہوں کو برستے دیکھا اس گھڑی قہقہے اس شخص سے اکثر نکلے کاش یوں ہو کہ وہ آئے تو نظر جھوم اٹھے اس کی آمد سے کبھی پیار کا منظر نکلے ہم نے اک عمر فریبوں میں گذاری عظمٰی موم سمجھا تھا جسے وہ تو ہیں پتھر نکلے   سیدہ عظمىٰ شاہ گردیزی    آزادکشمیر راولاکوٹ